جنگلات
لال سوہانرا کی جھاڑیوں سے لے کر کپاس کے کھیت کے کنارے ہوا روکنے والی درختوں کی قطار تک — درختوں کا ہر وہ روپ جو یہ ضلع سنبھال سکتا ہے۔
لال سوہانرا
لال سوہانرا اس خطے کا سب سے بڑا نیشنل پارک اور یونیسکو کا تسلیم شدہ بایوسفیئر ریزرو ہے: ایک ہی حدود کے اندر صحرا، جھاڑی دار جنگل، آبی علاقہ اور شجرکاری۔ کالا ہرن آج بھی یہاں موجود ہے تو اسی کی بدولت۔ اس کے لیے اصل طویل مدتی خطرہ کوئی ڈرامائی چیز نہیں — بلکہ کناروں پر خاموش قبضہ اور اندر ایندھن کے لیے لکڑی کی کٹائی ہے۔
نہروں کے کنارے شجرکاری
نہروں اور سڑکوں کے ساتھ درختوں کی یہ پٹیاں ضلع کا سب سے زرخیز درختی سرمایہ بھی ہیں اور سب سے نازک بھی۔ یہ گرد روکتی ہیں، پانی پر سایہ کرتی ہیں، مویشیوں کو چارہ دیتی ہیں — اور جب کوئی حصہ نیلام ہو جائے یا سڑک چوڑی کرنے کے لیے کاٹ دیا جائے تو خاموشی سے غائب ہو جاتی ہیں۔ ہم ہر سال ان کا نقشہ بناتے ہیں تاکہ نقصان سب کو نظر آئے۔
کھیتوں کے کنارے درخت
کھیت کی منڈیر پر درختوں کی صرف ایک قطار ہوا کا دباؤ کم کر کے اندر کی فصل کی پیداوار بڑھا دیتی ہے، اور کاشتکار کو چارے اور لکڑی کی صورت میں واپسی بھی دیتی ہے۔ گنجان کاشت والے ضلع میں درختوں کا احاطہ بڑھانے کا یہ سب سے تیز راستہ ہے، کیونکہ یہ فصل کا مقابلہ نہیں کرتا۔
کون سی انواع، سچ پوچھیں تو
سفیدہ تیزی سے بڑھتا ہے مگر پانی بہت پیتا ہے؛ جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح گر رہی ہو وہاں اسے پہلی پسند بنانا غلط ہے۔ یہاں جو مقامی اور مانوس انواع کامیاب رہتی ہیں وہ یہ ہیں: کیکر، شیشم، جنڈ، کریر، نیم، کھجور، بیری اور سکھ چین۔ ہم پودے وہاں کی زمینی صورتحال دیکھ کر لگاتے ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ نرسری میں کون سا پودا زیادہ پڑا ہے۔
جنگلات کے اعداد و شمار
- ڈویژن میں درختوں کا احاطہ
- ~2.8%
- نیشنل پارک کا رقبہ
- 51,368 ہیکٹر
- نقشے میں لی گئی نہری پٹی
- 412 کلومیٹر
- شامل ہونے والے فارم
- 690
- نرسریوں میں مقامی پودے
- 80%
- لگائی گئی انواع
- 17
شریک ہوں
بہاولپور کو ہفتے میں آپ کے دو گھنٹے چاہئیں
ہر ہفتے ہم ایک صفائی مہم، شجرکاری یا آگاہی واک کرتے ہیں۔ رضاکار وہ دن چُن لیتے ہیں جو اُن کے شیڈول میں فٹ آئے — کسی تجربے کی ضرورت نہیں، اوزار اور پانی ہماری طرف سے۔