پانی · 1 min read
چولستان کا زیرِ زمین پانی کم ہو رہا ہے، اور زیادہ تر کھارا ہے
ریت کے ٹیلوں کے نیچے پانی موجود ہے۔ شائع شدہ سروے بتاتے ہیں کہ اس کا زیادہ تر حصہ پینے یا آبپاشی کے قابل نہیں، اور اس کی بھرائی سال بھر کی 200 ملی میٹر سے کم بارش پر منحصر ہے۔

یزمان یا فورٹ عباس کے قریب کھیتی کرنے والے کسی بھی شخص سے پوچھیں کہ صحرا کا مسئلہ کیا ہے، جواب ایک لفظ ہوگا: پانی۔ یہ درست ہے، مگر اس میں کہانی کا مشکل تر آدھا حصہ چھپ جاتا ہے۔ چولستان میں صرف زیرِ زمین پانی کی کمی نہیں۔ ریت کے ٹیلوں کے نیچے پانی موجود ہے۔ جو چیز بہت کم ہے وہ ایسا پانی ہے جو پیا جا سکے یا آبپاشی میں کام آ سکے۔
سال بھر میں 200 ملی میٹر سے کم بارش
پہلے دیکھیے کہ آسمان سے کتنا آتا ہے۔ کاشف عارف اور پرویز خالد کے 2023 کے "لیسر چولستان" کے ہائیڈروجیوفزیکل سروے میں، جو PLOS ONE میں شائع ہوا، درج ہے کہ اس علاقے میں سالانہ 200 ملی میٹر سے کم بارش ہوتی ہے۔ اسی مطالعے کے مطابق صحرا کے نیچے موجود آبی ذخیرے کے صرف دو قابلِ ذکر ذرائع ہیں: بارش کا پانی، اور دریائے ستلج۔
یہی دوسرا ذریعہ وہ وجہ ہے کہ اوپر کی طرف جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر یہاں پڑتا ہے۔ ایک صحرائی آبی ذخیرہ جسے ایک موسمی دریا اور 200 ملی میٹر سے کم بارش سے پانی ملتا ہو، اس کے پاس کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ جو نکالا جائے وہ خاموشی سے واپس نہیں بھرتا۔
پانی گہرا نہیں ہے۔ کھارا ہے۔
اسی سروے نے گہرائی کے اعداد بھی دیے، اور وہ زیادہ پریشان کن نہیں۔ مطالعے کے علاقے کے شمال مشرق میں ایک کنویں پر پانی کی سطح تقریباً 12 میٹر یا اس سے کم پر تھی۔ جنوب مغرب میں ایک بور پر تقریباً 17 میٹر یا اس سے کم۔ لوگوں کو یہ پانی استعمال کرنے سے گہرائی نہیں روکتی۔
معیار روکتا ہے۔ مطالعے کے مطابق ایک دبے ہوئے پرانے دریائی راستے کے ساتھ آبی ذخیرے کے اوپری حصے میں پانی میں تقریباً 4,000 پی پی ایم کل حل شدہ نمکیات ہیں۔ قلعہ دیراوڑ کے قریب تقریباً 410 میٹر گہرائی سے لیا گیا ایک نمونہ 25,400 پی پی ایم نکلا۔ عالمی ادارۂ صحت کی پینے کے پانی سے متعلق رہنمائی 1,000 پی پی ایم سے کافی پہلے ہی پانی کو ناگوار قرار دے دیتی ہے۔ دونوں اعداد اُس حد سے بہت آگے ہیں جہاں پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے قابلِ استعمال رہے۔
یہ تقسیم جغرافیائی ہے اور واضح ہے۔ سروے میں میٹھا زیرِ زمین پانی زیادہ تر شمال میں، ریت اور بجری کی تہوں میں ملا، اور کھاراپن پورے جنوب میں، چکنی مٹی والی تہوں میں۔ یہی عملی وجہ ہے کہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر لگے دو ٹیوب ویلوں کا انجام بالکل مختلف ہو سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمسائے کے مشورے پر بور کروانا منصوبہ نہیں، جوا ہے۔
باقی پنجاب اسی پانی کے ساتھ کیا کر رہا ہے
چولستان الگ تھلگ نہیں۔ ڈیلی ٹائمز میں لکھتے ہوئے پنجاب کے ایک سابق وزیرِ آبپاشی اور تین بار کے رکنِ صوبائی اسمبلی نے صوبائی تصویر یوں پیش کی: تقریباً 14 لاکھ زیادہ تر غیر ریگولیٹڈ ٹیوب ویل، سالانہ 55 سے 60 ملین ایکڑ فٹ نکاسی جبکہ قدرتی بھرائی صرف 3 سے 5 ملین ایکڑ فٹ، اور زراعت کا 90 فیصد سے زائد استعمال۔ اُن کے مطابق صوبے کے جنوب میں کھاراپن پہلے ہی 60 سے 70 فیصد زیرِ زمین پانی خراب کر چکا ہے۔
یہ ایک سیاست دان کا رائے نامہ ہے، کوئی پیئر ریویوڈ تحقیق نہیں، اس لیے اس کے انداز کو وکالت سمجھیں۔ پھر بھی 2004 تا 2024 کے لیے دیے گئے اعداد لکھنے کے قابل ہیں: ملتان میں 32 فٹ، وہاڑی میں 20 فٹ، پاکپتن میں 44 فٹ، لاہور میں 48 فٹ کمی۔ ان میں سے کوئی ضلع چولستان نہیں، مگر سب اسی علاقائی نظام سے پانی لیتے ہیں۔
وہ خلا جو ہم پُر نہ کر سکے
ہم نے تلاش کیا مگر یہ نہ مل سکا: خود چولستان میں پانی کی سطح کی گہرائی کا کوئی شائع شدہ، باقاعدہ اپ ڈیٹ ہونے والا ریکارڈ۔ تحقیقی کام وقتاً فوقتاً کیے گئے سروے ہیں — قیمتی، مگر کبھی کبھار۔ اخبارات میں جو صوبائی اعداد آتے ہیں وہ نہری آبپاشی والے اضلاع کے ہیں۔ اگر صحرا کے لیے کوئی موجودہ، عوامی، سال بہ سال ریکارڈ موجود ہے تو ہم اسے ڈھونڈ نہیں سکے۔
یہ غیر موجودگی خود بھی اتنی ہی بڑی خبر ہے جتنی کھاراپن۔ جس چیز کو کوئی ناپ ہی نہ رہا ہو اُس کا انتظام نہیں ہو سکتا، اور اس وقت اس سوال کا دیانت دار جواب کہ چولستان کا پانی کتنی تیزی سے بدل رہا ہے، یہی ہے کہ چند تحقیقی ٹیموں کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
اس سے ہمارے لیے کیا بدلتا ہے
تین باتیں نکلتی ہیں۔ بور کرانے سے پہلے ٹیسٹ کرائیں، کیونکہ اس زمینی ساخت میں ہمسائے کا اچھا بور آپ کے بارے میں بہت کم بتاتا ہے۔ توبوں اور بارش کا پانی جمع کرنے کو ورثہ نہیں، بنیادی ڈھانچہ سمجھیں، کیونکہ سالانہ 200 ملی میٹر سے کم ہی پورا بجٹ ہے اور سطحی ذخیرہ وہ حصہ ہے جس پر ہمارا بس چلتا ہے۔ اور نگرانی کے اعداد مانگتے رہیں، کیونکہ باقی ہر بات اُن اعداد پر کھڑی ہے جو کوئی شائع نہیں کر رہا۔
اگر آپ یہاں زیرِ زمین پانی کے ساتھ کام کرتے ہیں — کسان ہوں، بور کرنے والے ہوں یا کسی محکمے کے اہلکار — اور آپ کے پاس ریڈنگز ہیں تو ہم دیکھنا چاہیں گے۔ ہمارا رابطہ صفحہ سب سے تیز راستہ ہے۔
مآخذ
- Kashif Arif اور Perveiz Khalid، "Hydrostratigraphy and hydrogeophysical studies to delineate fresh and saline aquifer boundaries in Lesser Cholistan of Pakistan"، PLOS ONE، 2023۔ تحقیق پڑھیں
- "Punjab’s Groundwater Crisis"، ڈیلی ٹائمز۔ مضمون پڑھیں
- "Appraisal of groundwater conditions through hydrogeophysical and hydrogeological approach in Cholistan area, district Bahawalpur"، PLOS ONE۔ تحقیق پڑھیں
یہ تحریر شائع شدہ ذرائع پر مبنی ڈیسک ریسرچ ہے، ایکو بہاولپور کا میدانی ڈیٹا نہیں۔